ڈاکٹر شاہد اشرف
عماد اظہر کی غزل کا ساتواں دن
۔۔۔۔۔
غزل کی صنف باقی اصناف سے قطع نظر ہیئتی اعتبار سے بے پناہ امکانات رکھتی ہے ۔ ہر شاعر شعری منطقے کی دریافت کا عزم رکھتا ہے مگر یہ گوہر مقصود معدودے چند شعرا کے حصے میں آتا ہے ۔ اس کامرانی کے پس پردہ شاعر کا خاص زاویہ نظر موجود ہوتا ہے ۔ عام شاعر صرف خیال باندھنے کو ترجیح دیتا ہے اور اس میں تخصص نہیں رکھتا ہے ۔ خاص شاعر خیال کو اپنی شعری فضا کے تابع کرتا ہے اور شعری فضا سے عدم مطابقت کی بنا پر کسی خیال کو ضایع کرنے میں دریغ نہیں کرتا ہے ۔ عماد اظہر کی غزل اس شعری معیار کی نمایاں ترین مثال ہے ۔ میں انتہائی ذمہ داری سے کہنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے ڈکشن ، خیال اور اسلوب کی سطح پر انفرادیت پیدا کی ہے ۔ اس طرح وہ اپنی خاص شعری فضا بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو قدیم و جدید سے مستعار نہیں ہے ۔ انھوں نے اپنا خاص فکری دائرہ کار متعین کر لیا ہے جس کی وجہ سے ہر شعر کا رنگ و عکس موجودہ عمومی شاعری سے قطعاً الگ دکھائی دیتا ہے ۔ وہ روحانی اور وجدانی کیفیات سے شعری مرقع بناتے ہیں ۔ یہ کیفیات خاص عطا کی مرہون منت ہوتی ہیں اور عماد اظہر کی شاعری اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اسے چن لیا گیا ہے ۔
ظہورِ ذات تھا اور رنگ دائرے میں تھے
درونِ خواب ہم اپنے ہی تجربے میں تھے
۔۔
سمٹ چکی تھی دریچوں میں رات کی خوشبو
اور ایک صبح کے آثار ملگجے میں تھے
۔۔
پھر ایک روز نکالا گیا ہمیں تم سے
کئی زمانوں سے ہم ایک دوسرے میں تھے
ان اشعار کی فضا میں خاص روحانی رنگ جلوہ گر ہے ۔ خواب میں ظہور ذات ، دریچوں میں سمٹی خوشبو اور کئی زمانوں بعد ایک دوسرے سے نکلنا معرفت ، حقیقت اور تصوف کا خوبصورت امتزاج ہے ۔ یہ موضوعات اُردو شاعری میں نئے نہیں ہے ۔ عماد اظہر کا پیرایہ ء اظہار اتنا منفرد ہے کہ گماں گزرتا ہے جیسے ہم پہلی بار ان تجربات سے آشنا ہوئے ہیں ۔ ان تجربات میں حیرت کے جہاں آباد ہیں اور یہاں گفتگو سے زیادہ نظارے کو اہمیت حاصل ہے ۔
صورت گوشہء پوشاک ہوئے پاک ہوئے
ہم چراغوں کے لیے طاق ہوئے پاک ہوئے
۔۔۔
جانے کس سمت لیے پھرتا فقیری کا غرور
صاحبو! شکر ہے ہم خاک ہوئے پاک ہوئے
۔۔۔
یہ مدینہ ہے یہاں رنج و الم کوئی نہیں
جو گنہ گار بھی عشاق ہوئے پاک ہوئے
اُردو شاعری میں چراغ کا استعارہ عام مستعمل ہے اور عموماً طاق کو بوجہ نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔ چراغ اہل ولا اور یارانِ صفا کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ طاق گوشہء اہل ولا یا محفل یاران صفا کی بابت اشارہ کرتا ہے ۔ ایسے ماحول میں پاکیزگی در آتی ہے اور فقیری کا غرور خاک میں مل جاتا ہے ۔ تیسرے شعر میں مدینے کا ذکر کر کے تمام فکری حجاب اٹھا دیے گئے ہیں ۔ عماد اظہر کی غزلوں کی بنیاد حمدیہ و نعتیہ آہنگ پر رکھی گئی ہے ۔ حمد کہنا زیادہ مرغوب ہے البتہ وہ بہت کم براہ راست نعت کا دائرہ مکمل کرتے ہیں ۔ وہ غزل کے باب میں نعتیہ فضا پسند کرتے ہیں ۔ اچانک غزل کا ایک شعر تمام غزل کے معنی و مفہوم کو بدل کر رکھ دیتا ہے ۔ گویا شعر تمام غزل کی گرہ کھول کر سرشار کر دیتا ہے ۔
درود پاک کی خوشبو سے جان پاتا ہوں
کوئی فقیر ہے جس کی ہے جھونپڑی مجھ میں
۔۔
میں جاگتے ہوئے اک خواب میں اتر آیا
پھر اس کے بعد مری آنکھ کھل گئی مجھ میں
یقیناً پہلا شعر واضح نعتیہ فضا سے معطر ہے ۔ دوسرے شعر میں خواب کشف ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس شعر کی زیریں سطح سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بابت غمازی کرتی ہے ۔ یہاں شعور و آگہی کی آنکھ کھلنا دراصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو ظاہر کرتا ہے ۔ کہیں کہیں وہ ابہام کے بجائے واضح اظہار بھی کرتے ہیں ۔
وہاں سے لوگ روانہ ہوئے ہیں میری طرف
جہاں ہیں باغ کھجوروں کے اور صحرا ہے
۔۔۔
آخری شخص ہوں دنیا میں محبت کے لیے
اب مرے بعد کوئی اور نہیں آئے گا
۔۔۔
جاگتی انکھ سے دیکھا ہے سر آب رواں
سبز مٹی ہے جزیزہ ہے سر آب رواں
کھجوروں کے باغ سے لوگوں کی آمد ، دنیا میں محبت کرنے والا آخری شخص اور جاگتی آنکھ سے سر آب رواں جزیرے کی واضح علامات نے انھیں شعری فضا کو مکمل نعتیہ رنگ میں ڈھال دیا ہے ۔ بظاہر وہ غزل کا منظر نامہ ترتیب دیتے ہیں لیکن پس منظر میں نعت کار فرما نظر آتی ہے ۔ ان کی غزل حمدیہ و نعتیہ کلام کی خوبصورت
ترین مثال ہے ۔ ان کی غزلوں میں بے پناہ شعری وفور غمازی کرتا ہے کہ روحانی وابستگی کے بغیر ایسی شاعری ممکن نہیں ہے ۔ ان کی شاعری میں ایک خاص موضوع زماں سے متعلق ہے ۔ کائنات اور وقت کے دائرہ کار سے باہر کچھ نہیں ہے ۔ وہ نئے زاویہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں اور اپنے تجربات کو دہراتے ہیں ۔ کسی بھی موضوع کا نیا زاویہ ہی توجہ کھینچتا ہے اور عماد اظہر کو نئے انداز میں دیکھنے پر خاص قدرت حاصل ہے ۔
میں لگاتا ہوں زمانوں میں زمانے کی گرہ
مجھ کو معلوم ہے آواز کدھر جاتی ہے
۔۔
بیٹھتا اٹھتا ہوں میں اتنے زمانوں میں کہ اب
میرے اپنے ہی زمانے کے لیے کچھ نہیں ہے
۔۔
یہ رنگِ آب کوئی بہ رہا ہے دریا میں
مرے علاوہ بھی اک دوسرا ہے دریا میں
ہے
۔۔۔
مجھ سے پہلے بھی کئی بار مرا ذکر ہوا
مجھ سے پہلے بھی گزارا ہے زمانہ میں نے
ان کی شاعری میں غار کا حوالہ بار بار آتا ہے ۔ یوں شعر از خود اپنے فکری حصار کو مکمل کر لیتا ہے ۔ تلمیحی ، علامتی اور استعاراتی حیثیتوں سے یہ لفظ خیال کی تزئین میں مدد دیتا ہے ۔ اسے عماد اظہر کا پسندیدہ ترین لفظ بھی کہا جا سکتا ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی ذات کے اندر غار کی جستجو میں ہیں ۔ یہ دریافت آسان نہیں ہے اور وہ مسلسل گیان و دھیان کر رہے ہیں ۔ معاملہ یہ ہے کہ جسے یہ غار مل جاتا ہے وہ اس راز میں کسی کو شریک نہیں کرتا ہے ۔
اک کسوٹی پہ رکھے دست عزازیل مجھے
غار تک آیا سناتے ہوئے انجیل مجھے
۔۔۔
مشورہ غار کے یاروں سے لیا کرتا تھا
میں محبت کے لیے اسم پڑھا کرتا تھا
۔۔۔
اس سے پہلے کہ مرے زخم نمایاں ہوتے
غار میں آگ جلاتے ہوئے محتاط رہا
یہ عماد اظہر کی غزل کا مختصر جائزہ ہے ۔ ان کی نظمیں الگ تنقیدی جائزے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ البتہ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ دونوں اصناف ایک ہی فضا سے معطر ہیں ۔ انھوں نے چھے دن مسلسل غزل کو بنانے اور سنوارنے میں گزارے ہیں ۔ وہ ساتویں دن آرام کا ہے ۔ ہم ان کی شعری کائنات کو حیرت سے دیکھ رہے ہیں اور وہ ہمیں دیکھ کر مسکرائے جا رہا ہے ۔
ڈاکٹر شاہد اشرف